تاہم ملا عمرکو ان مذاکرات سے دور رکھا گیا ہے۔اخبار نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم ازکم چار طالبان رہ نما ان مذاکرات میں شریک ہیں۔اور ان میں سے ایک کاتعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔ تاہم اس کا نام نہیں بتایا ۔ اخبار کے مطابق مذاکرات میں شرکت کے لیے طالبان رہ نما پاکستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے چھوڑ کر نیٹو طیارے میں کابل پہنچے۔ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں کیونکہ امریکی اور افغان حکام اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان طالبان رہ نماؤں کی اپنی تنظیم میں کیا حیثیت ہے۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات پاکستانی حکام کی اجازت کے بغیر ہورہے ہیں۔
............
/110